کم عمر ہونے کے باوجود بلاول بھٹو میچور سیاستدان ۔۔۔۔ پاکستان کا آئندہ کا سیاسی منظر نامہ کیا ہو گا ؟ حسن نثار اور سہیل وڑائچ کا خصوصی تبصرہ - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

کم عمر ہونے کے باوجود بلاول بھٹو میچور سیاستدان ۔۔۔۔ پاکستان کا آئندہ کا سیاسی منظر نامہ کیا ہو گا ؟ حسن نثار اور سہیل وڑائچ کا خصوصی تبصرہ


کراچی (قدرت روزنامہ) جیو کے پروگرام ‘‘آپس کی بات‘‘ میں میزبان منیب فاروق سے بات چیت کرتے ہوئے سنیئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں بلاول بھٹو نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیاسی لوگوں میں سب سے کم عمر ہو کر بھی وہ سیاسی طور پر سب سے زیادہ میچور ہیں اور بعض اوقات پاکستان کے جو کور ایشوز ہیں جن کی طرف ہماری سیاست میں عموماً توجہ نہیں دی جاتی وہ گاہے بگاہے اس طرف بھی متوجہ ہوتے ہیں لیکن مسئلہ وہی ہے کہ وہ عملاً پارٹی کے مختار نہیں بنے ہیں حالیہ لہجے کی سختی سے لگتا ہے کہ انہیں آصف زرداری کی طرف سے بھی گو ہیڈ مل گیا ہے اس لئے اب پیپلز پارٹی بھی پھنس گئی ہے اور جس طرح نون لیگ پھنسنے پر ری ایکشن دے رہی تھی یہ دونوں پارٹیز اس لئے ایک دوسرے سے ملتے ہیں نون لیگ کو بھی یہ احساس ہے کہ پیپلزپارٹی ہم سے مل کے اپنی بارگیننگ پاور بڑھانا چاہتی ہے اور پیپلز پارٹی کو یہ شک ہے ہمارے ذریعہ مسلم لیگ اپنی بارگیننگ پاور بڑھا کر مسلم لیگ نون ڈیل کرنا چاہے گی. نواز شریف چاہیں گے پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر ایک انقلابی موقف اپنا لیا جائے لیکن شہبازشریف یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی تک انہوں نے جو سی بی ایم کئے ہیں اس وقت ان کے قریب جانا ان کے کئے دھرے پر پانی پھیر دے گا.

پروگرام میں تحریک انصاف کے صداقت عباسی اور مسلم لیگ نون کے محسن شاہنواز رانجھا اورسنیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ بھی شریک گفتگو رہے.محسن شاہنواز نے کہا کہ میاں نواز شریف کی صحت کا معاملہ ہو وزراء کی پرفارمنس کا ایشو ہو یا گورنمنٹ کے اختیارات میں تجاوز کی بات ہو ہر جگہ مسلم لیگ ن اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہی ہے پیپلز پارٹی ہمارے ساتھ اپوزیشن میں ہیں اس لئے ظاہر ہے پیپلز پارٹی مسلم لیگ کے ساتھ مل کر جدوجہد کر رہی ہے. جہاں تک تین وزراء کے استعفیٰ کی بات ہے اس پر ہمارا پیپلز پارٹی سے جو بھی مشاورتی اجلاس ہوگا اس میں سامنے آئے گا لیکن اُصولی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اگر اُن کے وزراء کے کالعدم تنظیموں سے روابط کے ثبوت موجود ہیں تو پھر یقینی طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے .

..

مزید خبریں :

Load More