بڑے پاکستانی بینک نے بڑی سہولت ختم کر دی ۔۔ صارفین کو مشکلات کا سامنا | Daily Qudrat - Latest Urdu News website
Can't connect right now! retry

بڑے پاکستانی بینک نے بڑی سہولت ختم کر دی ۔۔ صارفین کو مشکلات کا سامنا


کراچی(قدرت روزنامہ) رواں سال بڑے سائبر حملے کا شکار ہونے والے بینک اسلامی نے اپنے تمام صارفین کیلئے ای بینکنگ کے دوران پن کوڈ کی سہولت ختم کردی جس کے باعث صارفین کو اپنے کریڈٹ کارڈ ،ڈیبٹ کارڈ، اے ٹی ایم کے ذریعے رقم نکالنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. بینک نے صارفین کو پیغامات بھی جاری کیے ہیں کہ سائبر کرائم حملے کے بعد پن کوڈ بلاک کردئیے گئے ہیں اور صارفین برانچ سے رابطہ کرکے بائیو میٹرک تصدیق کے بعد پن کوڈ حاصل کرسکتے ہیں.بینک کی جانب سے پیغامات موصول ہونے کے بعد بینک کی برانچز میں صارفین کا رش نظر آرہا ہے. بینک اسلامی کا موقف ہے کہ بینک نے سائبر کرائم حملے کے بعد اپنے آئی ٹی سسٹم کے سیکورٹی فیچرز کو کو تو سخت کردیا ہے جبکہ آئی ٹی سٹم اور ای کامرس کے حوالے سے تمام معاملات کنٹرول ہیں لیکن اسٹیٹ بینک کی گائیڈ لائن کے بعد سٹم کو مزید مضبوط کیا جارہا ہے. صارفین کا کہنا ہے کہ بینک کی جانب سے پہلے کوئی اطلاع موصول ہوئی نہ پن کوڈ بلاک کرنے کا پیغام ملا تاہم رقم نکالنے کیلئے اے ٹی ایم پر جاتے ہیں تو کارڈ ای ٹی ایم میں ڈالنے کے بعد پیغام آتا ہے کہ آپ کا پن کوڈ بلاک کردیا ہے اور برانچ سے رابطہ کرکے پن کوڈ تبدیل کریں. واضح رہے رواں سال نومبر میں پاکستان کے 22 بینکوں کے 19 ہزار 846 صارفین کے کارڈز کی معلومات بیچنے کی غرض سے ڈارک ویب پر ڈالی گئیں. ملک میں سائبر حملوں کے

 

واقعات وسط اکتوبر میں اس وقت شروع ہوئے جب بینک اسلامی کے چند صارفین کو ٹرانزیکشنز (لین دین) کے پیغامات موصول ہوئے اور یہ وہ صارفین تھے جن کے پیسے چوری کرکے بینک سے نکالے گئے، بینک سے کم از کم 26 لاکھ روپے کی ٹرانزیکشنز کی گئی جس کے بعد 27 اکتوبر کو بینک اسلامی نے اپنی بین الاقوامی ادائیگی کی اسکیم بلاک کر دی. یہ ایک منظم سائبر حملہ تھا جس میں بینک اسلامی کی ادائیگی کا نیٹ ورک اور بین الاقوامی ادائیگی کی اسکیم متاثر ہوئی، ہیکرز نے تمام ٹرانزیکشنز بینک سے جاری بین الاقوامی اے ٹیم ایم کارڈز کے ذریعے کی. واقعہ کے بعد مرکزی بینک نے ملک میں موجود تجارتی بینکوں کو تمام ادائیگی کارڈز کی سیکورٹی ممکن بنانے اور ان کارڈز کے استعمال کی نگرانی بالخصوص بین الاقوامی لین دین کی ہدایت کی تھی. رپورٹ کے مطابق 26 اکتوبر 2018ءکو پاکستانی بینکوں سے تعلق رکھنے والے صارفین کے 9 ہزار ڈیبٹ کارڈز کی معلومات نکال کر ڈارک ویب پر ڈال دی گئیں، اس کے بعد 31 اکتوبر کو ڈارک ویب پر 12 ہزار کارڈز کی معلومات ڈالی گئیں جس میں سے 11 ہزار کارڈز کا تعلق پاکستانی بینکوں سے تھا. صارفین کے کارڈز تقریباً 100 سے 160 ڈالرز کی قیمت میں بیچے گئے، ملک کے تمام بینکوں کی طرح حبیب بینک لمیٹڈ بھی سائبر حملوں کا شکار ہوا اور اس کے 8 ہزار سے زائد کارڈز متاثر ہوئے، اس کے علاوہ یو بی ایل، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، مسلم کمرشل بینک (ایم سی بی) اور میزان بینک کے ایک ہزار سے زائد کارڈز متاثر ہوئے جبکہ بینک الفلاح، بینک اسلامی اور بینک آف پنجاب سمیت دیگر بینکوں کے 500 سے زائد کارڈز کی معلومات ڈارک ویب پر منتقل کی گئی. واضح رہے کہ پچھلے سال دسمبر میں بھی حبیب بینک لمیٹڈ کے اے ٹی ایم کارڈز کو نشانہ بنایا گیا تھا.

..

ضرور پڑھیں: ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ 150پر ۔۔۔۔ کتنے عرصے میں پاکستانی روپیہ بے حد مضبوط ہو جائے گا ؟ معروف ماہرنجوم کی پیشگوئی جان کر آپ ڈالر بیچ کر پاکستانی روپیہ خریدنا شروع کر دیں گے

ضرور پڑھیں: وزراء کے بیان۔۔ قوم حیران تو وزیراعظم پریشان

مزید خبریں :