کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں کے قاتل برینٹن کی بندوق پر جو الفاظ لکھے تھے ، انکے پیچھے کتنی خوفناک کہانی پوشیدہ ہے ؟ ہارون الرشید کی یہ تحریر آپ کو بھی فکر میں ڈال دے گی - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں کے قاتل برینٹن کی بندوق پر جو الفاظ لکھے تھے ، انکے پیچھے کتنی خوفناک کہانی پوشیدہ ہے ؟ ہارون الرشید کی یہ تحریر آپ کو بھی فکر میں ڈال دے گی


لاہور(قدرت روزنامہ) مساوات آدمیت کے پیغمبر جناب عیسیٰ علیہ السلام کیبات بھی وہ نہیں سنتے ہیں. ان کی آنکھیں وہ نیلی اور جلدگوری چٹی دکھاتے ہیں.

یہ دہشت گردی کا کوئی عام سا واقعہ نہیں. واقعہ ایک شہر میں ہوا مگر تاریخ کل عالم کی ایک نیا موڑ مڑ گئی. نائن الیون سے بڑا نہیں نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ....... مگر اتنا ہی اہم ضرور ہے. عالم اسلام سے مغرب کے تعلقات اب ویسے رہیں گے نہ باقی اقوام سے. قاتل کا ہدف صرف سجدہ ریز مسلمان نہ تھے بلکہ اسلام بھی. ساری قومیں‘ کروڑوںکالے، چینی اور ظاہر ہے کہ مسلمان‘ اسلام بھی. اگر اسلام اور نا مطلوب اقوام، مجسّم ہوتیں‘ فرض کیجئے انسان کے پیکر میں تو انہیں اسی طرح وہ قتل کرتا، جس طرح عبادت گزاروں کو. لندن کے میئر صادق خان موجود ہوتے تو انہیں وہ قتل کرتا. ان کا نام لے کر اس نے دہائی دی. اس کے نقطۂ نظر سے یہ بالکل جائز ہی نہیں لازم بھی تھا. لندن کا میئر برطانوی حکومت میں وزیر اعظم کے بعد دوسرا اہم ترین عہدہ ہے. ابھی کچھ دن میں بحث کھلے گی، اپنی ساری جہات میں برپا ہو گی. جرمنی کے ڈوئچے ویلے چینل، بی بی سی، سی این این، نیویارک ٹائمز یا محمد بن سلمان کے ذاتی اخبار لندن کے انڈی پینڈنٹ میں، کوئی کہے گا: محمد صادق لندن کے میئر بن سکتے ہیں. کوئی گورا کراچی، جکارتہ یا استنبول کی شہری حکومت کا سربراہ نہیں ہو سکتا. اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے سفیر محمد اسد، یہودی نژاد گورے تھے. انگریزی بولتے اور مغربی لباس پہنتے. پاکستان کا پہلا پاسپورٹ قائد اعظم کی بجائے انہیں جاری کیا گیا. پاک فوج کا پہلا سربراہ بھی ایک گورا تھا. پنجاب اور سر حد کے گورنر بھی. ماضی کی بات ہے، آج کے مسلمان تو متعصب ہیں. وہ کہیں گے. واشنگٹن پوسٹ یا لندن ٹائمز میں لازماً کوئی لکھے گا. قوموں کا مزاج صدیوں میں استوار ہوتا ہے. ہیجان میں بے ساختہ ظاہر ہوا کرتا ہے. پاکستان کے بہترین تعلیم اداروں میں سے ایک اخوت کالج کا سربراہ ایک گورا ہے. اُس کا تعلق اُسی نیوزی لینڈ سے ہے جہاں تاریخ میں انسانیت کو امن عطا کرنے والے رحمۃ للعالمینؐ کے پیروکار بے دردی سے قتل کئے گئے. آج کے مسلمان کا مزاج کیا ہے. کوئی جائے اور اُخوت کالج کے پرنسپل مسٹر فل سٹرا سے پوچھ لے. یہ کہ کالج کے مسلمان منتظمین اور ماتحتوں کا روّیہ کیسا ہے. کالج کے طلبہ باپ کی طرح ان کا احترام کرتے ہیں یا نہیں؟ ڈاکٹر امجد ثاقب اس پیار سے انہیں لائے جس طرح کسی محبوب کو مدعو کیا جاتا ہے. دیدۂِ سعدی و دل ہمراہِ تست .. تا نہ پنداری کہ تنہا می روی .. وہ اسامہ بن لادن نہیں. اٹھائیس سالہ برینٹن ٹیرینٹ نے اپنے عزائم چھپا نہ رکھے، رائفل سجانے کی طرح کیمرے کی فکر بھی پوری طرح کی تاکہ اپنے ایسے کروڑوں کا دل ٹھنڈا کرے. اس کے خیال میں ان میں سے ایک صدر ٹرمپ اور ان کے لاکھوں ووٹر بھی شامل ہیں. جو کالوں، مسلمانوں اور چینیوں کو نفرت سے دیکھتے ہیں. جن کے لیڈر نے میکسیکو امریکہ سرحد پر دیوار تعمیر کی ہے. ٹیرینٹ کی رائفل پہ ایک حوالہ ویانا 1863 کا ہے. یہ وہ سال ہے سلمان ذی شان کی ترک افواج نے جب ویانا کا محاصرہ کر رکھا تھا. ارے بھائی، یہی وہ برس تھا، جب برطانوی حکومت نے

..

مزید خبریں :

Load More