امریکہ کا ساتھ دیں یا نہیں ۔۔۔۔۔؟ 2011 میں ایک میٹنگ میں پرویز مشرف نے مجھ سے رائے مانگی تھی تو میں نے انہیں کیا جواب دیا تھا ؟ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی باتوں کے تذکرے میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ کی ایک شاندار تحریر - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

امریکہ کا ساتھ دیں یا نہیں ۔۔۔۔۔؟ 2011 میں ایک میٹنگ میں پرویز مشرف نے مجھ سے رائے مانگی تھی تو میں نے انہیں کیا جواب دیا تھا ؟ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی باتوں کے تذکرے میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ کی ایک شاندار تحریر


لاہور (قدرت روزنامہ) پچھلی دود ہائیوں کے عرصے میں ہماری سوچ میں بڑی مثبت تبدیلی آئی ہے’ اب ہم نے حق بات کہنے کا سلیقہ اپنایا ہے‘ مثلاً آج سے 19سال پہلے جب امریکہ نے سوویٹ یونین کی شکست کے بعد دنیائے اسلام کو ہدف بنایا تو اس سازش میں سب سے پہلے سابق آرمی چیف آف پاکستان جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ..

.... پاکستان شامل ہوا.نائن الیون کے واقعے کو بہانہ بنا کے پہلے افغانستان کو سبق سکھانے کا فیصلہ ہوا. اس وقت کے امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ رچرڈ آرمیٹیج نے جنرل مشرف کو ٹیلیفون کیا اور بتایا کہ وہ افغانستان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور پاکستان کو ان کا ساتھ دینا لازم ہے اور سات شرائط کو بھی ماننا ہے ورنہ تمہارا حشر نشر کر دیا جائے گا. جنرل مشرف نے سات شرائط بھی مان لیں اور امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان کے خلاف حملے میں شریک ہونے کا فیصلہ بھی کر لیا.یہ اہم فیصلہ کرنے کے بعد جنرل مشرف نے ملک کے صاحبان الرائے‘ دانشوروں، سیاستدانوں اور اہم سفارت کاروں کو دعوت دی. تین کانفرنسیں منعقد ہوئیں جن میں چالیس سے پچاس معتبر شخصیات نے شرکت کی. تیسری کانفرنس 23 ستمبر 2011ء کو اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں مجھے بھی مدعو کیا گیا.جنرل مشرف نے تقریبا تین گھنٹے تک اپنے اس اہم فیصلے کی منطق بیان کی. میں تنگ آگیا اور بولا‘ ’’جناب صدر‘ اجازت ہو تو میں کچھ عرض کروں.‘‘ یس سر‘آپ ضرور بولیں.’‘‘ میں نے بولنا شروع کیا: ’’جناب صدر‘ آپ نے بدترین فیصلہ کیا ہے جس کے پاکستان کی سلامتی پر خطرناک نتائج مرتب ہوں گے. بہتر ہوگا اگر آپ مشورہ کر کے ایک سرخ لائن کا تعین کر لیں کہ : ہم امریکہ کا ساتھ دینے میں اسی حد تک جائیں گے‘ اس سے آگے نہیں جائیں گے. ایک اہم بات کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ اس جنگ میں طالبان جیتیں گے‘ امریکہ ہار جائے گا.(لوگ ہنس پڑے). بے شک امریکہ افغانستان پر قبضہ کر لے گا.لیکن اس کے بعدوہ ہماری طرف پلٹے گا. ان سرحدی علاقوں کے عناصر کی سرکوبی کا مطالبہ کرے گاجو روسیوں کے خلاف افغانیوں کی جنگ آزادی کے لئے مدد فراہم کرتے رہے ہیں. جنگ ہم پر پلٹ دی جائے گی.آپ نے یہ فیصلہ کر کے ہزاروں شہیدوں کے خون کا سودا کیا ہے جس طرح جنرل ضیاء نے 1988ء میں روسی انخلا کے بعد امریکی سازش کا حصہ بن کے افغان مجاہدین کو اقتدار سے محروم رکھا تھا جوخانہ جنگی کا سبب بنا. انہی کی طرح آپ کو اللہ کیا سزا دے گا‘ دنیا دیکھے گی.جنرل مشرف نے کچھ کہنا چاہا لیکن حلق میں الفاظ اٹک گئے. کانفرنس ختم ہو گئی. دکھ کی بات یہ تھی کہ ان تینوں کانفرنسوں میں شامل کسی اور نے ان کے فیصلے سے اختلاف نہیں کیا.یہ ایک المیہ تھا جواب ایک اچھی روایت میں بدلتا نظرآ رہا ہے.ابھی کل کی بات ہے کہ امریکہ‘ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے چند معتبر تجزیہ نگاروں نے حق کی بات کرنے کا حوصلہ دکھایا ہے.ماشاء اللہ ’’بالاکوٹ کے واقعہ کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں پاکستان کی کامیابی اور برتری کے لمحے ہماری نااہلی کی وجہ سے اپنی افادیت کھوتے جا ر ہے ہیں.امریکہ نے بھرپور طریقے سے بھارتی حملے کی حمایت کی ہے. مائیک پومپیو نے بالاکوٹ پر بھارتی حملے کو جائز قرار دیا ہے.

..

مزید خبریں :

Load More