وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب نے نواز شریف کو این آر او دینے پر رضا مندی ظاہر کر دی - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب نے نواز شریف کو این آر او دینے پر رضا مندی ظاہر کر دی


اسلام آباد((قدرت روزنامہ)وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جس قسم کا کڑا احتساب علیمہ خان نے دیکھا ہے اگر نواز شریف اس کو این آر او کہتے ہیں تو صبح دستاویزات لے آئیں اور مجھ سے این آر او لے لیں. تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے نواز شریف کو این آر او دینے کی باضابطہ پیشکش کر دی.

وہ نجی ٹی وی پر معروف صحافی و سینئیر تجزیہ کار عارف نظامی سے گفتگو کر رہے تھے.اس موقع پر عارف نظامی نے ان سے پوچھا کہ مخالفین کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ این آر او صرف علیمہ خان کو ملا ہے تو کیا اس میں کوئی حقیقت ہے.اس پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جس طرح کا این آر او علیمہ خان کو دیا گیا اگر اس طرح کا این آر او نواز شریف کو چاہیے تو میں اس کے لیے ایسا این آر او انکو دینے کو تیار ہوں . انکا کہنا تھا کہ علیمہ خان کو جتنی ٹیکس لائبلٹی دینا تھی اس سے زیادہ لائبلٹی انہوں نے دی.آپ 15 فیصد تک ٹیکس جمع کروا کر انتظار کریں اور جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ

نہیں آجاتا تب تک انتظار کریں .انکا کہنا تھا کہ جس قسم کا کڑا احتساب علیمہ خان نے دیکھا ہے اگر نواز شریف اس کو این آر او کہتے ہیں تو صبح دستاویزات لے آئیں اور جتنی رقم ان کے ذمے واجب الادا ہے وہ ادا کریں اور مجھ سے این آر او لے لیں. وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان سے باہر جانے والی دولت کو واپس لانا ہماری ترجیح ہے.انکا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں مختلف ممالک سے بات چیت چل رہی ہے اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جلد ہی اس حوالے سے اہم اقدامات اٹھائے جائیں،انکا کہنا تھا کہ میں ابھی حال ہی میں برطانیہ سے ہو کر آیا ہوں اور خاصی امید بندھی ہے کہ ہم اپنے مشن میں کامیاب ہوں گے. انکا کہنا تھا کہ 11 ارب ڈالر کے اثاثوں کا سراغ لگایا جا چکا ہے.انکا کہنا تھا کہ ابھی بہت سا کام ہونا باقی ہے.انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جعلی اکاونٹس کے لیے بنی جے آئی ٹی نے بھی بہت سے انکشافات کئیے ہیں جن کے سرے یواے ای ،برطانیہ اور امریکا میں نکلتے ہیں تو ان سب تک رسائی اور انکی واپسی ایک مشکل کام ہے کیونکہ آپکو مختلف مراحل سے گزرنا پڑتاہے تاہم اگر ہمارے پاس بنیادی شواہد موجود ہوں گے تو ان اثاثوں کو واپس لانا آسان ہوگا.انکا کہنا تھا کہ ابھی تو مختلف چیزیں سامنے آ رہی ہیں تاہم یہ یقین دلاتاہوں کہ اس ریکوری کے لیے آپکو ہماری حکومت کے آخر تک انتظار نہیں کرنا ہو گا بلکہ اس سال کے اندر اندر ہی ریکوری کا عمل شروع کر دیا جائے گا.

..

مزید خبریں :

Load More