امریکہ خواہش کر رہا ہے کسی طرح سے مذاکرات ہوجائیں لیکن اب ہم کیا کرینگے؟پاک فوج نے ٹرمپ کوبڑا سرپرائز دیدیا | Daily Qudrat - Latest Urdu News website
Can't connect right now! retry

امریکہ خواہش کر رہا ہے کسی طرح سے مذاکرات ہوجائیں لیکن اب ہم کیا کرینگے؟پاک فوج نے ٹرمپ کوبڑا سرپرائز دیدیا


راولپنڈی(قدرت روزنامہ)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسی حد عبور نہ کرے کہ پھر ریاست کو اپنی رِٹ قائم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے پڑیں ٗ ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج کمی آرہی ہے ٗ وقت قریب ہے کہ ہم مکمل امن کی طرف چلیں گے ٗاگلے سال پاک افغان بارڈر پر خاردار تار لگانے کا کام مکمل ہوجائے گا، جس سے صورتحال میں مزید بہتری آئیگی ٗ لاپتہ افراد سے معلق 2 جگہوں پر شکایات موصول ہوئیں ٗ مجموعی طورپر 7 ہزار کیسز آئے ٗتقریباً 4 ہزار کیسز حل ہوچکے ہیں ٗکرتارپور راہداری صرف ون وے ہوگی، بھارت سے سکھ یاتری آئیں گے اور واپس چلے جائیں گے، کرتارپور راستے پر خاردار تاریں لگائی جائیں گی ٗبھارت ہمیں ایسے ہی برداشت کرے جیسے ہیں ٗہم مسلمان ریاست ہیں، بھارتی آرمی چیف ہمیں نہ بتائیں ہمیں کیسے بننا ہے؟ہم ڈٹ کے کھڑے ہیں ٗ اگر بھارت جارحیت کرے گا تو اس کا جواب دیں گے ٗرواں برس کنٹرول لائن پر سیز فائر کی 2593 خلاف ورزیاں ہوئیں، جن کے نتیجے میں 55 شہری شہید اور 300 زخمی ہوئے ٗافغانستان میں جنگ میں اتنی کامیابی نہیں ہوئی جتنی پاکستان نے حاصل کی ٗامریکہ خواہش کر رہا ہے کہ کسی طرح سے مذاکرات ہوجائیں ٗجتنا کردار ادا کرسکتے ہیں کریں گے ٗ 70 سال گزر گئے ٗ اب بھی عوام کو بتا رہے کہ ہم نازک دور سے گزر ہے ہیں ٗ یہ نازک دور کیوں آئے اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ہم ماضی میں بیٹھے رہے تو آگے نہیں جاسکتے ٗہم خود کو ٹھیک کریں گے تو آگے کچھ ہوگا ٗکوئی شک نہیں کہ کسی اور کی جنگ دوبارہ نہیں لڑیں گے،پاک فوج کا تعلق ایک پارٹی ٗبندے یا ایک صوبے سے نہیں ٗوزیر اعظم کی پوری گفتگو کو سننا ہوگا ٗمیڈیا صرف چھ مہینے کیلئے پاکستان کی ترقی دکھائے ٗبلوچستان صوبے میں امن وامان کی صورتحال ماضی سے بہتر ہے ٗ ملک کو ایک ایک اینٹ لگا کر دوبارہ بنا رہے ہیں، ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں آئین کے مطابق قانون کی حکمرانی ہو . جمعرات کو یہاں میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج کمی آرہی ہے اور وقت قریب ہے کہ ہم مکمل امن کی طرف چلیں گے.

ضرور پڑھیں: تحریک لبیک نے ریاست کے خلاف بات کی اب اس کی قیادت کے ساتھ کیا سلوک کیاجائیگا؟پاک فوج نے واضح کردیا

آپریشن رد الفساد کے دوران ملک بھر میں کی گئی کارروائیوں کے اعدادشمار بتاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کے تحت 44 بڑے آپریشن کیے گئے جس کے دوران ملک سے 32 ہزار سے زائد ہتھیار ریکور کیے گئے.میجر جنرل آصف غفور نے کہا

کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بہت کمی واقع ہوئی ہے اور وہاں فراری ہتھیار ڈال رہے ہیں.انہوں نے بتایا کہ افواج پاکستان کی زیادہ تر توجہ بلوچستان کی جانب ہے تاکہ وہاں صورتحال بہتر ہو.میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ گذشتہ چند سالوں میں کراچی میں امن وامان کی صورتحال میں بہت بہتری واقع ہوئی ہے جس کا کریڈٹ پاکستان رینجرز سندھ کو جاتا ہے جس نے جانفشانی سے کام کیا ہے اور اس شہر کی روشنیاں واپس لوٹائی ہیں جبکہ پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی اہم کردار ادا کیا.ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کراچی ایک زمانے میں جرائم کی شرح کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر تھا لیکن اب یہاں صورتحال بہت بہتر ہے، شہر میں دہشت گردی کے واقعات میں 99 فیصد جبکہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں 93 فیصد کمی واقع ہوئی ہے.پی ٹی ایم سے متعلق گفتگو انہوں نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ والوں کے صرف 3 مطالبات تھے، چیک پوسٹس میں کمی، مائنز کی کلیئرنس اور لاپتہ افراد کی بازیابی، یہ وہ مطالبات ہیں جو ریاست کی ذمہ داری ہے اور وہ کررہی ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی ایم والے ڈیڈ لائن کراس کریں گے تو ہم انہیں چارج کریں گے لیکن ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا ہوا ہے کیونکہ وہ دکھے ہوئے ہیں ان کے علاقے میں پندرہ سال جنگ ہوئی جس کا شکار ان کے بہت سے لوگ ہوئے، ان کے مسئلے سے ریاست یا فوج نے آنکھیں نہیں پھیریں.میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پی ٹی ایم والے اس لائن کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ان کے ساتھ وہی ہوگا جو ریاست اپنی اپنی رٹ برقرار رکھنے کیلئے کرتی ہے اور ہم کریں گے.چیک پوسٹس میں کمی کے مطالبے کے حوالے سے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاک فوج نے صورتحال میں بہتری آنے پر چیک پوسٹوں میں کمی کی ہے، اگلے سال پاک افغان بارڈر پر خاردار تار لگانے کا کام مکمل ہوجائے گا، جس سے صورتحال میں مزید بہتری آئے گی. انہوں نے کہا کہ جس دن فوج کو ایسا محسوس ہوگا کہ یہاں سیکیورٹی کی صورتحال ایسی ہوگئی ہے کہ یہاں اب ایک چیک پوسٹ کی بھی ضرورت نہیں ہے تو انہیں ہٹادیا جائے گا.انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی جانب سے بہت زیادہ بہتری کرلی، یہاں تعمیراتی کام کا بھی آغاز ہوگیا ہے لیکن افغانستان کا اپنے دہشتگروں پر، سرحد پر اور سرحدی علاقوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے جس کا پاکستان کو خطرہ ہے اور اسی وجہ سے اس علاقے میں 2 لاکھ فوج تعینات ہے.خیبرپختونخوا اور فاٹا میں بارودی سرنگ ہٹانے سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 43 ٹیمیں وہاں کام کر رہی ہیں اور انہوں نے ابھی تک 44 فیصد علاقہ بارودی سرنگوں سے کلیئر کردیا. لاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے 15 سال جنگ لڑی جس کے دوران بہت سے دہشت گرد مارے بھی گئے، اس وقت بھی تحریک طالبان پاکستان کی فورس وہاں بیٹھی ہے تو یہ کیسے ثابت ہوگا کہ لاپتہ افراد ان کی فورس میں شامل نہ ہوں، یا کسی اور جگہ لڑائی ہیں استعمال نہ ہورہے ہوں.ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ لاپتہ افراد سے معلق 2 جگہوں پر شکایات موصول ہوئیں اور مجموعی طورپر 7 ہزار کیسز آئے، جن میں سے تقریباً 4 ہزار کیسز حل ہوچکے ہیں.میجر جنرل آصف غفور نے کہکا کہ 70 ہزار پاکستانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لڑتے ہوئے شہید یا زخمی ہوئے، وہ بھی ہم میں سے ہی ہیں.انہوں نے بتایا کہ کرتارپور راہداری صرف ون وے ہوگی، بھارت سے سکھ یاتری آئیں گے اور واپس چلے جائیں گے، کرتارپور راستے پر خاردار تاریں لگائی جائیں گی.بھارتی آرمی چیف کے بیان سے متعلق میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم مسلمان ریاست ہیں، ہمیں نہ بتائیں ہمیں کیسے بننا ہے، بھارت خود کو سیکولر ملک کہتا ہے تو وہ پہلے بن بھی جائے، وہاں مسلمانوں کی کیا حالت ہے، ہم نے تو کرتارپور کو دوسرے مذہب کی بنیاد پر کھول دیا، ہم مندر اور گرجا گھروں کو سیکیورٹی دیتے ہیں لہٰذا بھارت خود سیکولر بن جائے اور ہمیں ایسے ہی برداشت کرے جیسے ہم ہیں.ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم ڈٹ کر کھڑے ہیں، بھارت کیا بڑا اقدام کریگا ٗ اگر جارحیت کرے گا تو اس کا جواب دیں گے، انہوں نے جنگ بھی کرکے دیکھ لی، جنگ کرنے آئیں گے تو دیکھ لیں گے.ڈی جی آئی ایس پی نے بتایا کہ 2017 میں بھارت کی جانب سے 1881 سیز فائر کی خلاف ورزیاں ہوئی تھیں لیکن رواں برس کنٹرول لائن پر سیز فائر کی 2593 خلاف ورزیاں ہوئیں، جن کے نتیجے میں 55 شہری شہید اور 300 زخمی ہوئے.انہوں نے کہاکہ بھارتی فورسز جان بوجھ کر عام آبادی کو نشانہ بتاتی ہیں.

..

ضرور پڑھیں: پاک فوج کا تعلق ایک پارٹی ٗبندے یا ایک صوبے سے نہیں ،وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر پاک فوج نے دوٹوک اعلان کردیا

مزید خبریں :