اسد عمر سے تلخ کلامی کی خبریں غلط،تحریک انصاف کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،عمران خان اب بھی مجھ پر اتنا ہی اعتماد کرتے ہیں جتنا پہلے کرتے تھے:جہانگیر ترین | Daily Qudrat - Latest Urdu News website
Can't connect right now! retry

اسد عمر سے تلخ کلامی کی خبریں غلط،تحریک انصاف کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،عمران خان اب بھی مجھ پر اتنا ہی اعتماد کرتے ہیں جتنا پہلے کرتے تھے:جہانگیر ترین


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین نے کہا ہے کہتحریک انصاف کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ،وزیر اعظم عمران خان  مجھے جو ٹاسک دیتے ہیں وہ سرانجام دیتا ہوں، عمران خان اب بھی مجھ پر اتنا ہی اعتماد کرتے ہیں جتنا پہلے کرتے تھے،میں کوئی حکومتی عہدہ تو نہیں رکھ سکتا لیکن پاکستان کی خدمت کرنا نہیں چھوڑ سکتا،وزیر خزانہ اسد عمر کے ساتھ میری تلخ کلامی کی تمام خبریں غلط ہیں،فیصلے کرنے سے ہی ملک آگے بڑھتے ہیں ،اگر 80 فیصد فیصلے درست ہو جائیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے .نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی ٹیم کمزور نہیں بلکہ نئی ہے، تمام وزرا بہترین کارکردگی دکھانے میں اپنی صلاحیتیں صرف کرنے میں مصروف عمل ہیں، ہمیں وراثت میں خراب معیشت اور خالی خزانہ ملا،ڈالر کی قیمت میں اضافے کے ہم سب ذمہ دار ہیں صرف وزیرخزانہ اسد عمر کو اس کا قصوروار نہیں ٹھرایا جا سکتا، پی ٹی آئی قیادت ٹیم ورک پر یقین رکھتی ہے، ہمیں چاہیے تھا کہ حکومت میں آنے کے دو ہفتے کے بعد ہی عوام کو ملکی معیشت کی خراب حالت کے بارے میں آگاہ کر دیا ہوتا.

ضرور پڑھیں: میڈیا صرف 6 ماہ پاکستان کی ترقی دکھائے، پھر دیکھیں ملک کہاں جاتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

انہوں نے کہا کہعمران خان ایک لیڈر ہے اور اس ملک کی عوام نے انہیں بھر پور سپورٹ کیا ہے ،پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کی ڈرائیونگ فورس عمران خان کے ہاتھ میں ہے ،ہماری حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ،پی ٹی آئی حکومت مستحکم ہے اور آنے والے دنوں میں مزید مضبوط ہوتی جائے گی،پی ٹی آئی حکومت اپنی مدت ضرور  پوری کرے گی.جہانگیر خان ترین کا کہنا تھا کہ خان صاحب نے 22 سال جدوجہد کی ہے ،احتساب کرنے کا وعدہ ان کا قوم سے ایک بہت بڑا وعدہ تھا،صرف وہ ہی نہیں ہم بھی سمجھتے ہیں کہ اس ملک کو کرپشن نے کھوکھلا کر دیا ہے، اگر وہ چوروں کو پکڑنے کی بات کرتے ہیں تو بالکل صحیح کرتے ہیں.انہوں نے کہا کہ  نیب ایک اچھا ادارہ ہے جس نے ماضی میں بہت سے لوگوں کے خلاف بہترین فیصلے کیے ہیں مگر نیب کو ابھی سے زیادہ بااثر ہونے کی ضرورت ہے،نیب میں اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن اس کو مزید موثر اور مضبوط ہونا چاہئے ،کرپشن روکنے کے لئے حکومت نیب کو مزید با اختیار کرے گی ،نیب کا قانون بہت اچھا ہے لیکن اس میں بہت زیادہ بہتری کی ضرورت ہے .جہانگیر خان ترین کا آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل ہونے کے بعد کوئی سیاسی عہدہ نہ ملنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، میرا کام تھا کہ پی ٹی آئی کو عوام کی بہترین نمائندہ جماعت کے طور پر دیکھوں، عوام کی خدمت ہمیشہ میری سب سے اولین ترجیح رہی ہے اور وہ میں اب بھی کوئی سیاسی عہدہ نہ رکھتے ہوئے بھی جاری رکھے ہوئے ہوں،جو مجھ سے پوچھتے ہیں میں انکو یہی کہتا ہوں کہ میں کوئی حکومتی عہدہ تو نہیں رکھ سکتا لیکن پاکستان کی خدمت کرنا نہیں چھوڑ سکتا،عمران خان اب بھی مجھ پر اتنا ہی اعتماد کرتے ہیں جتنا پہلے کرتے تھے،میری جدوجہد کا مقصد یہ تھا کہ عمران خان وزیر اعظم بنیں اور ملک میں تبدیلی آئے ،مجھے کسی عہدے کی ضرورت نہ پہلے تھی نہ اب ہے ،مجھے خوشی ہے کہ میری جدوجہد کامیاب ہوئی اور اللہ کے فضل سے عمران خان وزیر اعظم بن گئے ہیں، اب ملک میں تبدیلی کے لئے وزیر اعظم کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہوں اور اس کام کے لئے مجھے کسی عہدے کی ضرورت نہیں ہے،آئین کے آرٹیکل 62 ایف ون کے حوالے سے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا لیکن اس کے پیرا میٹر طے ہونا چاہئیں.جہانگیر خان ترین کا کہنا تھا کہ فوج کے ساتھ حکومت کے معاملات بہت اچھے چلیں گے،یہ بھی بہت بڑی تبدیلی ہے کہ پہلے کی حکومتیں فوج کے ساتھ تعلقات بگاڑ لیتی تھیں لیکن تحریک انصاف کی حکومت تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چل رہی ہے اور تمام فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں،مجھے کوئی پیغام آئے تو میں پہنچا دیتا ہوں لیکن میں کوئی برج نہیں ہوں

، خان صاحب کے فوج کے ساتھ اپنے براہ راست روابط  موجود ہیں.پی ٹی آئی نچلی سطح پر اختیارات اور وسائل دینے کا عزم  لے کر آئی ہے، ہماری کوششش ہے کہ دیہی کونسل تک اختیارات دے دیں جیسا ہم نے خیبرپختونخوا میں کیا تھا ویسا ہی پنجاب میں کرنا چاہتے ہیں.انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالنے سے پہلے معلوم نہیں تھا کہ معاشی حالات اتنے خراب ہیں؟ہر ادارے میں کرپشن انتہائی حد تک بڑھ چکی ہے، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیکن 100 سے زیادہ دن لگیں گے،حکومتی فیصلوں میں میری کوئی کارکردگی نہیں ہے،ہمیں حکومت سنبھالنے کے دو ہفتے بعد ہی قوم کو بتانا چاہئے تھا کہ کتنا بڑا معاشی بحران ہمارے سر پر ہے . جہانگیر خان ترین نے کہا کہ ہماری کوششش ہے کہ دیہی کونسل تک اختیارات دے دیں جیسا ہم نے خیبرپختونخوا میں کیا تھا ویسا ہی پنجاب میں کرنا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی نچلی سطح پر اختیارات اور وسائل دینے کا عزم  لے کر آئی ہے.ایک سوال کے جواب میں جہانگیر خان ترین کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار ڈس فنکشنل نہیں ہیں، وہ اچھا کام کر رہے ہیں اور وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں 

..

ضرور پڑھیں: ’شادی کے 5 دن بعد ہنی مون پر میرا شوہر مجھے چھوڑ گیا اور یہ زندگی کی سب سے بہترین چیز تھی‘ دلہن نے ایسی بات کہہ دی کہ آپ کو بھی ہنسی آجائے

مزید خبریں :