وفاقی کابینہ کے اہم فیصلے  | Daily Qudrat - Latest Urdu News website
Can't connect right now! retry

وفاقی کابینہ کے اہم فیصلے 


وفاقی کابینہ نے صدر مملکت، وزیراعظم اور وزراء4 کے صوابدیدی فنڈز پر پابندی عائد کرنے، ملک بھر کی کچی آبادیوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے ٹاسک فورس کے قیام، ہفتے کی چھٹی برقرار رکھنے، لاہور،اسلام آباد، پشاور ماس ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ سسٹمز اور اورنج ٹرین لاہور کے منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کرانے کی منظوری دیدی ہے جبکہ کفایت شعاری و سادگی مہم کے تحت وزیراعظم اپنے بیرون ملک دوروں کے لئے خصوصی طیارہ استعمال نہیں کریں گے، وزیراعظم، چیف جسٹس، آرمی چیف، وزیر خارجہ سمیت کابینہ کے اراکین بیرون ملک سرکاری دوروں کے لئے فرسٹ کلاس کی بجائے کلب کلاس میں سفر کریں گے، ملک بھر میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم کا آغاز کیا جائے گا.وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد تواترکے ساتھ کابینہ کے اجلاس ہورہے ہیں،اگلا اجلاس وزیر اعظم نے منگل کو طلب کیا ہے،بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر کچی آبادیاں موجود ہیں،ملک بھر میں کچی آبادیوں کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ٹاسک فورس بنائی جائے گی ،تمام ماس ٹرانزٹ منصوبوں جیسے ملتان ، اسلام آباد ،لاہور اور اورنج لائن ٹرین منصوبوں کا فرانزک آڈٹ ہوگا ،ضرورت پڑی تو ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات کا دائرہ پھیلایا جائے گا ،تمام منصوبے پارلیمان میں ڈسکس ہوں گے،تحریک انصاف نے کبھی بھی کسی عوامی پراجیکٹ کو بند کرنے کی بات نہیں کی لیکن ہمارا پہلے روز سے مؤقف رہا ہے کہ ان بڑے بڑے پراجیکٹ کے پیچھے کرپشن ہے.

ضرور پڑھیں: آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس ،اعظم سواتی قصور وار قرار، 62 ون ایف چارج کرتے ہیں دفاع پیش کریں: چیف جسٹس

انہوں نے مزید بتایا کہ آج کابینہ نے تاریخی فیصلہ کیا ہے کہ وزیراعظم خصوصی طیارہ استعمال نہیں کریں گے بلکہ وہ فرسٹ کلاس کے بجائے کلب کلاس میں سفر کریں گے، تمام متعلقہ عہدیداروں کا فرسٹ کلاس سفر کا استحقاق ختم کردیا گیا ہے وفاقی کابینہ نے ہفتے کی چھٹی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پانچ دن کے دفتری اوقات کار صبح 9 سے شام 5بجے تک ہوں گے. نواز شریف نے 21 ارب روپے کے فنڈز استعمال کیے ، 30 ارب روپے کے فنڈز اپنے ایم این ایز کو دیئے،ایک سال میں 51 ارب روپے کے صوابدیدی فنڈز کے طور پر خرچ کیے گئے،نواز شریف نے سرکاری خزانے کو اپنی جاگیر کی طرح استعمال کیا ،نواز شریف جلسوں میں کہتے تھے کہ میں نے یہ پیسے آپ پر وار دیئے، پچھلی حکومت نے سرکاری خزانے کا بے دردی سے استعمال کیا لیکن یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے جسے اس طرح سے استعمال نہیں کیا جا سکتا،پاناما پیپرز کے بعد نوازشریف جہاں جہاں گئے ، ایک انٹرنیشنل ایئر پورٹ اور موٹروے کا اعلان ضرور کیا ،یہ نہیں دیکھا گیا کہ اس علاقے کی ضرورت کیا ہے؟صدر مملکت جن کا بظاہر کوئی آئینی کردار نہیں رہا، انہوں نے بھی 8 سے 9 کروڑ روپے کا صوابدیدی فنڈ استعمال کیا لیکن اب تمام فنڈزپارلیمنٹ میں زیربحث لانے کے بعدخرچ کیے جائیں گے.ان کا کہناتھاکہ وزیراعظم نے عیدکے روزلوڈشیڈنگ پرتشویش کااظہارکیا،سابق حکومت نے بجلی کی ترسیل کانظام بہترنہیں کیا، بجلی اورگیس موجودہ حکومت کیلئے اہم معاملات ہیں،وزیراعظم نے کہاکہ3دن چھٹی پرانڈسٹری بھی بند تھی تو لوڈشیڈنگ کیوں ہوئی؟وزارت اطلاعات کے اداروں کی ری اسٹرکچرنگ،اوورہالنگ کررہے ہیں،وزارت کیڈکوابھی ختم کرنیکافیصلہ نہیں ہوا،اسکوتقسیم کرنیکی تجویزہے،وزیراعظم کی خواہش ہے کہ بادشاہوں کی طرح پیسے خرچ کرنے بندکیے جائیں،سی پیک کے منصوبوں کوہرصورت مکمل کریں گے،سی پیک کے منصوبوں کے امین ہیں اور ان میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیں گے اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان حکومتی اخراجات کم کرنے خود اور وزراء کو سادگی اور بچت کی ترغیب دے رہے ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کرپٹ سیاستدان اور انکی آلہ کار بیورو کریسی حکومت کی راہ میں رکاؤٹیں ڈال رہی ہے ناکام بنانے مختلف قسم کے حربے استعمال کررہی ہے تاہم وفاقی کابینہ کے فیصلے خوش آئند ہیں مگر ان پر فوری عملدرآمد کی بھی ضرورت ہے ...

ضرور پڑھیں: وزیر اعظم پاکستان سخت غصے میں ۔۔اپنے سب سے قریبی دوست سے اہم ترین وزارت واپس لیے جانے کا امکان ۔۔ دھماکہ خیز خبر آگئی

مزید خبریں :