وزیراعلیٰ بلوچستان کا 100دن میں تبدیلی لانے کا عزم  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

وزیراعلیٰ بلوچستان کا 100دن میں تبدیلی لانے کا عزم 


بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ بلوچستان عوامی پارٹی کے میر کمال خان عالیانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا قبل ازیں بلوچستان اسمبلی میں 39ووٹ لے کر قائد ایوان منتخب ہوئے انکے مدمقابل متحدہ مجلس عمل کے یونس عزیز زہری نے 20ووٹ لئے جبکہ ن لیگ کی ٹکٹ پر کامیاب ہونیوالے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے بھی میر جام کمال عالیانی کو ووٹ دیا میر جام کمال نے قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد ایوان اللہ تعالیٰ ،اپنے صوبے کے عوام ، ووٹرز اور پارٹی کا شکر گزار ہوں کہ جن کی وجہ سے ہم آج اس ایوان میں ہیں آج جو منتخب نمائندے یہاں پرموجود ہیں ان پر عوام نے بھاری ذمہ داریاں عائد کی ہیں عوام کے مسائل بڑے پیچیدہ ہیں انتہائی نامساعد حالات میں بھی گھروں سے نکل کر اپنے ووٹ استعمال کئے اور اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے نمائندے منتخب کرکے یہاں اس ایوان میں بھیجے اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کی زندگیوں میں بہتری لانے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے اقدام اٹھائیں بلوچستان میں آج بھی عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے مسائل حل نہیں ہوئے کیونکہ ان کے حل کے کرنے کے لئے باتیں تو کی گئیں مگر عملی کوششیں نہیں ہوئیں یہاں ایوانوں میں باتیں ہوتی رہیں مجبوریاں بیان کی جاتی رہیں اور حکومتیں جاتی رہیں پچھلے چند سالوں کے دوران ہم اور ہمارے دوست یہ محسوس کررہے تھے کہ ہماری باتوں کو کسی سطح پر سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا حالانکہ صوبے میں ایسی جماعتیں بھی اقتدار میں آئیں کہ جن کی وفاق میں بھی حکومت تھی یا وفاق میں ان کی اتحادی جماعتیں تھیں مگر مسائل حل نہ ہوئے ہم نے محسوس کیا کہ ہماری سیاست میں ایک گھٹن ہے اس کے بعد ایک سوچ پیدا ہوئی ہم نے ضرورت محسو س کی اور بلوچستان عوامی پارٹی کا قیام عمل میں لایاگیا اور دوسری جماعتوں کی طرح عوام نے ہماری جماعت کو بھی بھرپور مینڈیٹ دیا اور آج ہماری جماعت قومی اور صوبائی اسمبلی میں بلوچستان کی سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی بن چکی ہییہ امر افسوسناک ہے کہ یہاں ماضی میں برسراقتدار آنے والی بعض حکومتو ں کو اس بات کا ادراک تک نہ تھا کہ ہم این ایف سی میں کہاں کھڑے ہیں وفاق میں ہمارا کتنا حصہ بنتا ہے ہم نے کیا لینا اورکیا دینا ہے انہوں نے کہا کہ ہم اچھی پالیسیاں اور منصوبے بنا سکتے ہیں عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرسکتے ہیں مگر بہتر پالیسیاں رپورٹس اس وقت تک فائدہ مند نہیں ہوسکتیں جب تک گورننس نہ ہو . اگرگورننس میں احتساب اوراہلیت نہیں تو کرپشن کو روکنا ممکن نہیں ہوگا دنیا کے بہترین منصوبے بنائیں اور گورننس نہ ہوتو بھی کوئی فائدہ نہیں بدقسمتی سے ہمارے ہاں سینئرز پرجونیئر افسران کو مسلط کیا گیا نظام میں اس طرح تبدیلی ممکن نہیں ہے گورننس اور بہتر سٹرکچر بنانے کے لئے نہ صرف ہماری جماعت بلکہ تمام سیاسی جماعتوں ، بیورو کریسی   اور عوام کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا جب حکومت اور اپوزیشن مل کر اپنی ذمہ داریاں اداکریں گی تو ہمارا نظام بھی ایک پٹڑی پر چل پڑے گا ہمارا پہلا ٹاسک گورننس کو بہتر بنانا ہے جو عوام کی ترقی کے لئے سوچ سکے ٹرانسپرنسی اور احتساب کی اہلیت رکھنے والا ہو تو پھر ہم صوبے کو ترقی دے سکیں گے پاکستان ایک فیڈریشن ہے اس میں وفاق اور صوبے کا رشتہ انتہائی اہم ہے ماضی میں اس رشتے کی بہتری کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے مرکز اور صوبے میں ایک ہی جماعت کی حکومت کا ہونا بہتر تعلقات کے لئے کافی نہیں بلکہ ان کے درمیان ایسے تعلقات ہوں جس سے صوبے کے عوام کی زندگیوں میں بہتری آئے پاکستان کی ترقی بلوچستان سے وابستہ ہے اور یہ ممکن نہیں کہ بلوچستان کو نظر انداز کیا جائے اسی طرح سی پیک کی ترقی گوادر سے وابستہ ہے اور یہ ہونہیں سکتا کہ گوادرمیں پینے کا پانی نہ ہو ہماراایک نکاتی ایجنڈہ بلوچستان کے مسائل کا حل ہے جس کے لئے ہم سب مل کر جدوجہد کریں گے ہمارے ایجنڈے پر وفاق نے ہمارے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانا ہوگا تعلیم صحت اور امن وامان اہم شعبے ہیں امن نہ ہو تو پھر کچھ نہیں ہوسکتا دیکھنا ہوگا کہ دس سال کے دوران ہم نے اپنی پولیس اور لیویز کی بہتری کے لئے کیا قانون سازی کی انہیں سہولیات کی فراہمی اورمورال بہتر بنانے کے لئے کچھ کیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ دس سال میں یہ کام نہیں ہوئیمصنوعی وعدوں کا دور اب ختم ہوچکا ہے عوام عملی کام دیکھنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں قانون سازی کے عمل کوبہتر بنانے کی ضرورت ہے ہم تعلیم، صحت ،بلدیات اور گورننس کے معاملات میں دیگر صوبوں اور پوری دنیا کو دیکھتے ہوئے یہاں کا نظام بہتر بناسکتے ہیں بلوچستان کے بہت سے شہر آج بھی پسماندگی کا شکار ہیں بالخصوص کوئٹہ جو کہ ہمارے پاس واحد بڑا شہر ہے اس کی حالت انتہائی ابتر ہے یہاں دس ارب روپے کس مد میں خرچ ہوئے معلوم نہیں .

ہم ایک خصوصی کمیٹی بنا کر کوئٹہ پیکج کا بھی جائزہ لیں سریاب پل دیکھنے سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کا ڈیزائن ٹھیک نہیں ہے جبکہ ہم ٹریفک کا نظام بہتر بنانے کی بجائے ایسی بسیں بنارہے ہیں جو جنگلوں میں بند ہوتی ہیں کوئٹہ شہر میں پارکنگ پلازے بنانے کی ضرورت ہے جبکہ بلڈنگ کوڈ پر بھی عملدآمد ناگزیر ہوچکا ہے اس حوالے سے سخت فیصلے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم کچھ لوگوں کو مثال بنادیں جن سے لوگ عبرت حاصل کرسکیں .اگر ہم نے کوئٹہ شہر میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ حل نہیں کیا تو یہاں سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوں گے پٹ فیڈرسے پانی لانے کا منصوبہ میری نظر میں ناممکن دکھائی دیتا ہے اس میں بہت سے مسائل پیش آسکتے ہیں ہمیں مسائل کی نشاندہی کرکے ان کا حل نکالنا ہوگا.انہوں نے کہا کہ جب بارش ہوگی تو پانی ذخیرہ کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں سب کچھ کرنے کے لئے طریقہ کار واضح ہونا چاہئے جب ہم خود میں اعتماد اور بھروسہ پیدا کریں گے تو حالات بہتر ہوں گے اگر وزیراعلیٰ ، وزراء اور بیورو کریسی ایوان میں نہیں آئیں گے تو اراکین بھی ایوان کی کارروائی میں دلچسپی نہیں لیں گے سو دن میں تبدیلی لائیں گے اور صوبے میں بلا امتیاز احتساب کریں گے اگر ہم نے احتسا ب نہ کیا تو پھر مسائل حل نہیں ہوں گے. پی ایس ڈی پی عام انسانوں کا پیسہ ہے اور پی ایس ڈی پی کا پلان اور اس کا طریقہ کار واضح کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دیں گے تمام تر ترقیاتی فنڈز خرچ کرنے کے حوالے سے کمشنر ز اور ضلع افسران سے ماہانہ اور ہفتہ وار بنیادوں پر رپورٹ لیں گے دکھ اس بات کا ہے کہ ماضی میں چار چھ اضلاع میں دس دس ارب روپے خرچ ہوئے جبکہ باقی اضلاع میں دس دس کروڑ بھی خرچ نہیں ہوئے یہ کوئی طریق کار نہیں بلوچستان ہم سب کا ہے اور اس کی پسماندگی کو مد نظر رکھ کر برابری کی بنیاد پر اقدامات کرنے چاہئیں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کو پانی کی فراہمی کے لئے چھ یا سات ڈیم بنانے کی اشد ضرورت ہے اس سے پانی کا مسئلہ حل ہوجائے گا .وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبے کو درپیش مسائل بالخصوص کرپشن بیورو کریسی کی ہٹ دھرمی کا جو ذکر کیا ہے وہ سو فیصد درست ہے اب انہوں نے جو اعلانات اور وعدے کئے ہیں اہل بلوچستان کو توقع ہے کہ وہ سابقہ حکمرانوں کی طرح نہیں ہونگے عملی اقدامات ہونگے عملی اقدامات ہوئے تو ہی حالات بہتر ہونگے ورنہ مزید ابتر ہونگے ...

مزید خبریں :

Load More