امن ،ترقی وخوشحالی ،آئین وقانون کے احترام سے مشروط - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

امن ،ترقی وخوشحالی ،آئین وقانون کے احترام سے مشروط


صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان ایک احساس ‘خوشبو اور عقیدہ ہی نہیں ہماری پناہ گاہ ہے‘جس طرح یہ ملک عوام کی جدوجہد سے وجود میں آیا تھا اسی طرح اس ملک کی قسمت کے فیصلے بھی ووٹ کی پرچی سے ہوں گے ، پاکستان کے نمائندے وہی ہوں گے جنہیں ووٹر ز منتخب کریں گے،اداروں کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے‘میری دعا ہے کہ اللہ نیک نیتی کے ساتھ کاروبار مملکت سنبھالنے والوں کی رہنمائی فرمائے .اسلام آباد میں یوم آزادی کی مرکزی تقریب سے خطاب کررہے تھے.

صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان ایک احساس ، ایک خوشبو اور ایک عقیدہ ہی نہیں بلکہ ہماری پناہ گاہ ہے جس کی آغوش میں ہم ہر لمحہ اور ہر دن آزادی کا لطف اٹھاتے ہیں لیکن ان ایام کے دوران ایک دن ایسا بھی ہے جو سب سے زیادہ خوشگوار ہے. یہ وہی دن ہے جسے 14 اگست کہتے ہیں جس دن اپنے پرچم کو مزید بلند کرنے کی لگن بڑھ جاتی ہے، اس اعتبار سے یہ حقیقی جشن کا دن ہے.اس بار یوم آزادی اور انتخابات تقریباً ساتھ ساتھ آئے ہیں گویا یہ ایک طرح کی یاد دہانی ہے کہ جس طرح یہ ملک عوام کی جدوجہد سے وجود میں آیا تھا اسی طرح اس ملک کی قسمت کے فیصلے بھی ووٹ کی پرچی سے ہوں گے ، پاکستان کے نمائندے وہی ہوں گے جنہیں ووٹر ز منتخب کریں گے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قانون وہی مناسب ہوگا جسے ان کے چنے ہوئے لوگ پوری ایمانداری سے بنائیں، ابتدائے آفرینش سے صرف وہی قانون کامیاب ہوسکا جس کی تشکیل عوام کی مرضی سے ہوئی. میری دعا ہے کہ اللہ نیک نیتی کے ساتھ کاروبار مملکت سنبھالنے والوں کی رہنمائی فرمائے اور پاکستان کی خدمت کرنے والوں کیلئے آسانیاں ہوں.پاکستان بنانے والے بزرگوں اور آج کی نوجوان نسل کے درمیان فاصلہ حائل ہے لیکن یہ امر باعث اطمینان ہے کہ یہ نوجوان نسل وطن کو آگے لے جانے کے لیے جوش عمل سے مالا مال ہے.صدر ممنون حسین نے کہا قیام پاکستان کا مقصد یہ تھا کہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکالا جائے تاکہ بندگان خدا اپنی زندگی آزادی سے گزار سکیں، ہم ابھی مکمل طور پر اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکے، اس اعتراف کے ساتھ ان وجوہات پر غور کرنے کی بھی ضرورت ہے جن کی وجہ سے ہم اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے. جب تک قومی مقاصد کے بارے میں مکمل یکسوئی پیدا نہیں ہوجاتی ہم منزل حاصل نہیں کرسکتے، سربراہ مملکت سے لے کر ایک کسان اور گلی کوچوں میں کام کرنے والے محنت کش کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح سے کام کرے کہ پاکستان کے وجود کے بارے میں ہر قسم کے شکوک رفع ہوجائیں. کچھ عرصے قبل حکومت اور حزب اختلاف نے انتہائی عرق ریزی کے ساتھ انتخابی اصلاحات تیار کیں جن کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کو وسیع ترین اختیارات دیے گئے، اداروں کو اسی طرح بااختیار بنانا ناگزیر ہے اگر مختلف حلقوں کی جانب سے بے اطمینانی محسوس کی جائے تو یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے رفع کرے کیونکہ ایک آزاد خودمختار پاکستان کی آرزو صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے. حالیہ انتخابات اس لیے بھی مشکل تھے کیونکہ اس دوران ملک کے بعض حصوں میں دہشتگردی کے پے درپے واقعات رونما ہوئے. ہم پاکستان کی قوم کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے قربانیوں کے باوجود انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا. ملک کیلئے جانیں قربان کرنے والے فرزندان وطن کو بھی سلام پیش کرتے ہیں. جشن آزادی کے موقع پر فرزندان کشمیر کی قربانیوں کو محبت کے ساتھ یاد کرتے ہیں اور اقوام عالم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بہادر کشمیری عوام کی اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے. ہم جدوجہد آزادی کی حمایت اور بدترین مظالم کی مذمت کرنے والے عالمی رہنما?ں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں عالمی رہنما اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے صدائے حق بلند کریں.صدر مملکت نے سو فیصددرست کہا ہے کہ پاکستان ہی ہماری پناہ گاہ ہے یہ ان لوگوں کیلئے واضح پیغام ہے جو بیرونی قوتوں کی ایماء پر ملک میں دہشتگردی اور علیحدگی کی تحریکیں چلا رہے ہیں وطن عزیز میں سیاسی جماعتوں کا بھی وطیرہ ہے کہ اقتدار ہے تو ٹھیک ورنہ ملک وقوم کچھ نہیں یہی وجہ ہے کہ آج بدترین صورتحال سے دوچار ہے اصل ضرورت آئین وقانون پر عملدرآمد کی ہے جو ہمارے لئے عام عوام کیلئے تو ہے لیکن سرمایہ داروں سیاستدانوں کیلئے نہیں ہے اسی منافقت کی وجہ سے آج ہم ذلیل وخوار ہیں ...

مزید خبریں :

Load More