ایٹمی جنگ قیامت درقیامت - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

ایٹمی جنگ قیامت درقیامت


تحریر‘سمیع اللہ ملک
شمالی کوریاکے معاملے میں غیرمعمولی جذباتیت کامظاہرہ کیاجارہاہے.امریکا کا میزائل پروگرام بعض معاملات میں اپنے اہداف اورمقاصد کے حصول میں ناکامی سے بھی دوچارہوسکتاہے.

سبھی کویہ فکرلاحق ہے کہ کسی نہ کسی طورشمالی کوریاکونشانہ بنایاجائے مگراس نکتے پرکوئی غورکرنے کوتیارنہیں کہ معاملات کہیں کہیں ناکامی پربھی منتج ہوسکتے ہیں.یہ حقیقت بھی نظراندازنہیں کی جا سکتی کہ امریکااورچین کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطے اِس قدر گرم جوشی پرمبنی نہیں جس قدرسابق سوویت یونین کے ساتھ سردجنگ کے دور میں تھے. واشنگٹن اوربیجنگ کے درمیان اعتماد کی شدید کمی دکھائی دے رہی ہے.دونوں ایک دوسرے پرزیادہ اعتمادکرنے کوتیارنہیں.امریکاکے اعلیٰ فوجی حکام چین کے عسکری تصورات اور نظریات کو یا تو بالکل نہیں سمجھتے یا پھر بہت ہی کم سمجھتے ہیں. اس حوالے سے تاخیر تو ہوچکی ہے مگر پھر بھی ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوگیا. امریکا کو چین کے عسکری عزائم اور صلاحیت و سکت کے سمجھنے کی ضرورت ہے. لازم ہے کہ امریکی فوج میں ایسے اعلیٰ افسران ہوں، جو چین کو عسکری سطح پر ڈھنگ سے سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہوں’’.
امریکا اور چین دونوں ہی بعض مواقع پر غیر منطقی ردّعمل کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں. کبھی کبھی کسی صورتحال کے تناظر میں کسی کا بھی ردعمل سمجھنا آسان نہیں ہوتا،مگرایک بات طے ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا.اگردونوں میں سے کوئی بھی ملک جنگ نہیں چاہتاتوپھر پریشانی کی بات کیا ہے؟ فریقین کیوں پریشان ہیں؟ اس کے دو بنیادی عوامل ہیں. ایک قلیل المیعاد اور ایک طویل المیعاد.
پہلا سبب تائیوان ہے،جس کے دفاع کاذمہ امریکانے لے رکھاہے. اس وقت تائیوان میں ایک ایسی جماعت کی حکومت ہے،جوچین سے انضمام کے خلاف اور آزادی کے حق میں ہے. تائیوان کے معاملے میں امریکا نے پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے. واضح نہیں کہ وہ تائیوان کے دفاع کے اپنے عزم و عہد پر قائم رہے گا یا نہیں اور اگر قائم رہے گا تو کب تک؟اس وقت چین کے پاس اتنی عسکری قوت ہے کہ وہ امریکا کی شدید مخالفت کے باوجود تائیوان کو اپنے میں ضم کرلے مگر چینی قیادت معاملات کو خواہ مخواہ طاقت کے استعمال تک لے جانا نہیں چاہتی. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں چند ایسے ریمارکس ٹوئیٹ کیے ہیں، جن کی روشنی میں چین کیلئیالجھن کھڑی ہوگئی ہے کہ وہ تائیوان کے معاملے میں کیا کرے اور کیا نہ کرے؟ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکی عزائم کے بارے میں کوئی غلط اندازہ لگاتے ہوئے چین کی فوج تائیوان پر حملہ کردے اور اْسے مین لینڈ چائنا میں ضم کرلے.
اب تک امریکا نے یہ تاثر دیا ہے کہ وہ چین کے ارد گرد کے خطے پر ہمیشہ راج کرسکتا ہے، متصرف رہ سکتا ہے. حقیقت یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکا کی طاقت میں کمی واقع ہو رہی ہے. جنوب مشرقی ایشیا کے خطے میں امریکا کی ساکھ کمزور تر ہوتی جارہی ہے. امریکا نے دفاع کے شعبے میں غیر معمولی اخراجات سے منہ نہیں موڑا مگر اب امریکی اتحادی ہر معاملے میں امریکا کی طرف دیکھتے رہنے کے روادار نہیں رہے. جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک سے متعلق چند ایسی حقیقتیں بھی ابھر کر سامنے آئی ہیں جنہیں امریکا کے غیر معمولی دفاعی اخراجات نے تبدیل نہیں کیا.
امریکا اور چین کے درمیان سیاسی، معاشی اور عسکری مخاصمت بڑھتی ہی جائے گی. امریکا اپنے دفاعی بجٹ میں جس قدر اضافہ کرتا جائے گا، چین بھی اْسی کے بہ قدر اضافہ کرتا جائے گا یعنی اس کی طاقت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا. اس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے خطے میں امریکا کی عسکری مہم جوئی بالآخر رائیگاں ہی جائے گی.
امریکا اور چین کے درمیان جوں جوں معاملات کشیدگی کی طرف جائیں گے، امریکا کیلئیبحرالکاہل کے خطے میں اپنی عسکری موجودگی برقرار رکھنے کے اخراجات میں غیر معمولی شرح سے اضافہ ہوتا جائے گااور ساتھ ہی ساتھ چین سے کسی حقیقی اور واقعی جنگ کا خطرہ بھی بڑھتا ہی چلا جائے گا. کشیدگی کے بڑھنے پر خطے کے ممالک ترجیحی طور پر چین کی طرف جھکیں گے. چند ایک ممالک امریکا کی طرف بھی جھک سکتے ہیں مگر زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وہ ایک طرف ہٹ کر امریکا اور چین کو لڑتے ہوئے دیکھنا پسند کریں گے.اس خطے کے ممالک کا برسوں کا تجربہ ہے کہ امریکا سے اتحاد کی صورت میں انہیں کچھ خاص ملتا نہیں. ایسے میں وہ اپنی ساکھ کیوں داو پر لگائیں گے؟امریکا کو اس بات کیلئیتیار رہنا چاہیے کہ چین سے باضابطہ جنگ کی صورت میں بحرالکاہل کے چند ہی ممالک اْس کی طرف آئیں گے. اور ہوسکتا ہے کہ ایسا بھی نہ ہو.
ایک اہم سوال یہ ہے کہ امریکا چین سے جنگ ٹال سکتا ہے یا نہیں، اور یہ سوال اِس لیے پیدا ہوتا ہے کہ اسے یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ چین کو برہم کرنے کی صورت میں وہ اپنی سرزمین پر کس قدر جانی و مالی نقصان برداشت کرسکتاہے. ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ امریکا جنگ چھیڑے اور اْس کے باشندوں کو نقصان سے دوچار نہ ہونا پڑے. اکیسویں صدی میں امریکی فوجی دور افتادہ علاقوں میں اجنبیوں کو قتل کر رہے ہیں.خمیازہ امریکی شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے. یہ سلسلہ مزید جاری رہ سکتا ہے. اگر امریکی فوجی اپنی سرزمین سے دور بے قصور لوگوں کو مارتے رہیں گے تو اْن کے اپنے بے قصور شہری بھی مارے جاتے رہیں گے. سنجیدہ ہونے کا وقت آگیا ہے. امریکی ہر معاملے پر قدرت نہیں رکھتے. ایسا بھی نہیں ہے کہ انہیں نشانہ نہیں بنایا جاسکتا. چین اور اس کے ہمسایہ ممالک کے معاملے میں امریکاکو ایسی پالیسی اپنانی چاہیے، جس میں دوسروں کیاحترام کا تاثر بھرپور انداز سے شامل ہو،وگرنہ قیامت سے پہلے قیامت کوکوئی روک نہیں پائے گا.

..

مزید خبریں :

Load More